16 جولائی 2014 - 12:39
ہیں دونوں ڈاکٹر مگر سوچ میں زمین آسمان کا فرق+ تصاویر

ایک جانب سعودی ڈاکٹر نے خدمت خلق کا یہ نقشہ پیش کیا اور دوسری طرف ناروے کی ڈاکٹر ماڈس گیلبرٹ نے جب فلسطین کے زخمیوں کی خستہ حالی کو دیکھا تو خود کو فلسطین پہنچا کر زخمیوں کی مرہم پٹی کر کے انسانیت اور خدمت خلق کا دوسرا رخ پیش کیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایک طرف سعودی عرب کا ڈاکٹر خدمت خلق کے فریضے کو چھوڑ کر موصل میں تکفیری گروہ داعش کے ساتھ مل جاتا ہے اور لوگوں کی جانیں بچانے کے بجائے عام لوگوں کے درمیان خود کش حملہ کر کے ۳۰ افراد کی جانیں لے لیتا ہے جبکہ دوسری طرف ناروے کا عیسائی ڈاکٹر ماڈس گیلبرٹ خود کو فلسطین پہنچا کر اسرائیلیوں کے ہاتھوں زخمی ہوئے مسلمانوں کی مرہم پٹی کرتا ہے۔ ہیں تو دونوں ڈاکٹر لیکن دونوں کی سوچ میں زمین آسمان کا فرق ہے ایک کی سوچ پر تکفیریت کی چھاپ تھی تو اس نے بجائے لوگوں کو زندگی دینے کے ان کی زندگیاں چھین لیں لیکن دوسرے کی سوچ پر انسانیت کا غلبہ تھا تو اسے بے سہارا زخمی فلسطینیوں کو دیکھ کر رہا نہ گیا لہذا اس نے صہیونی راکٹوں کی بارش میں خود کو غزہ پہنچایا۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ ہفتے سعودی ڈاکٹر ’’فیصل شامان العنزی‘‘ کی عراق میں خود کش حملہ کرنے اور ۳۰ افراد کا قتل عام کرنے کی خبر اس وقت شائع ہوئی جب فلسطین میں صہیونیوں نے غزہ کے مظلوم عوام پر راکٹوں کی بارش کر سیکڑوں کو شہید اور زخمی کیا۔ اگر اس سعودی ڈاکٹر کی عقل پر تکفیریت کی چھاپ نہ ہوتی تو یہ بجائے موصل جانے کے غزہ کا رخ کرتا۔ اور بجائے ۳۰ لوگوں کی جانیں لینے ۳۰ لوگوں کی زندگیاں بچاتا۔
تکفیری گروہ داعش کا یہ عقیدہ ہے کہ جو تکفیری خود خش حملے میں مارا جاتا ہے وہ براہ راست جنت میں داخل ہوتا ہے۔ تکفیری گروہ کے اس عقیدے کے مطابق ڈاکٹر فیصل شامان العنزی ۳۰ لوگوں کی جانوں کا قاتل اس وقت جنت میں ہو گا جبکہ سعودی عرب کے باشعور افراد کا کہنا ہے کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ڈاکٹر فیصل نے اس طرح اپنی زندگی کا خاتمہ کیا کہ اس کے ذمہ تیس مسلمانوں کا قتل ہے۔ وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ سکتا جنت میں جانا تو دور کی بات ہے۔
ایک جانب سعودی ڈاکٹر نے خدمت خلق کا یہ نقشہ پیش کیا اور دوسری طرف ناروے کی ڈاکٹر ماڈس گیلبرٹ نے جب فلسطین کے زخمیوں کی خستہ حالی کو دیکھا تو خود کو فلسطین پہنچا کر زخمیوں کی مرہم پٹی کر کے انسانیت اور خدمت خلق کا دوسرا رخ پیش کیا۔
ڈاکٹر ماڈس گیلبرٹ اگر چہ عیسائی ہے لیکن اس کے اندر انسانیت پائی جاتی ہے اس کے اندر انسانی دل اور انسانی درد پایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر گیلبرت اس وقت غزہ کے ہسپتال ’’الشفاء‘‘ میں زخمیوں کا علاج کرنے میں مصروف ہیں۔
انہوں نے پریس کانفرنس سے گفتگو میں کہا: صہیونی حکومت کی طرف سے مظلوم مسلمانوں پر لگے زخم بہت گہرے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ان حملوں میں اپنی جانوں سے منہ ہاتھ دھونے والوں میں ایک چوتھائی لوگ عورتیں اور بچے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: صہیونی حکومت نے بے سہارا بچوں اور عورتوں پر سفاکانہ حملے کرنے میں اپنی پوری طاقت کا استعمال کیا ہے جس کی وجہ سے انہیں شدید صدمہ پہنچا ہے۔

سعودی ڈاکٹر جس نے موصل میں خود کش حملہ کیا

درج ذیل تصاویر غزہ کے الشفاء ہسپتال میں ڈاکٹر ماڈس گیلبرٹ کی ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲